غیب سے کوئی اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

غیب سے کوئی اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
یہ جو پتھر ہے ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے

جس کے کہنے پہ ہمیں چھوڑ دیا ہے تو نے
کل وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے

ایک تنکا جو سر ِ آب نظر آتا ہے
ڈوبتے وقت سہارا بھی تو ہو سکتا ہے

گر بصیرت ہو بصارت کی حقیقت کیا ہے
بند آنکھوں سے نظارہ بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جو بے چین کیے رکھتا ہے دل کو صائب
خون کی شکل میں پارہ بھی تو ہو سکتا ہے

صدیق صائب

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان