گہر ساز

گہر ساز

سنہرے بالوں کی نرم خوشبو
جو شبنمی موتیوں سے تم نے ، سلگ سلگ کر اتار دی ہے
اداسیوں کے مچلتے جھمکوں، کی آب کتنی سنوار دی ہے
جلا کے کندن کا ہار کی ہے
وہ شوخ گردن کے گرد ،اب تک
تمھارے ریشم سے لمس دھاگوں کی گرہیں ،بنتی ہی جا رہی ہے
نجانے کب سے بلا رہی ہے
بلا رہی ہی، بلا رہی ہی،بہت ہی وہمی ،بہت ہی سہمی
مجھے گہر ساز توڑ دے گا،
سوال یہ سرسرا رہا ہے !
اور ایسا اک دن اگر ہوا تو
تمہاری مندری کے تن کا ہیرا
تمہاری سونا تو چاٹ لے گی۔۔۔!!!

فرزانہ نیناں

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان