میرے وطن میں جب بھی یوں آتی ہیں گرمیاں
جون و مئی میں رنگ دکھاتی ہیں گرمیاں
روح افزا کا بھی جوس پلاتی ہیں گرمیاں
سورج کی تیز آنچ دلاتی ہیں گرمیاں
آلو بخارے ،آم ، کھٹے فالسے ہوں گے
بینگن کے ساتھ آلو کبھی ٹینڈے ہوں گے
کھانا بناتے وقت پسینے بہے ہوں گے
بریانی ، کھیر مکس کے اپنے مزے ہوں گے
دل میں خوشی کے رنگ سجاتی ہیں گرمیاں
میرے وطن میں جب بھی یوں آتی ہیں گرمیاں
بچے بھی گرمیوں کی یوں چھٹی مناتے ہیں
بچپن میں دادا دادی کہانی سناتے ہیں
سن کے کہانی کتنے برے خواب آتے ہیں
بچوں کی چیخ سے بڑے بھی جاگ جاتے ہیں
ماضی کی خوشبو دل میں جگاتی ہیں گرمیاں
میرے وطن میں جب بھی یوں آتی ہیں گرمیاں
حافظ حمزہ سلمانی