گر میں دریا کے پا س آؤں گی

گر میں دریا کے پا س آؤں گی
ڈر بھی لگتا ہے ڈوب جاؤں گی
تیرے اشکوں کے قیمتی موتی
میں گلو بند میں جڑاؤں گی
میرے جگنو سے پر سلامت ہیں
میں تمہیں راستہ دکھاؤں گی
ناریل کی سفید قاشوں سے
روپ کی چاندنی بچھاؤں گی
دشتِ جاں میں فراق کے خیمے
روز لگواؤں گی ، گراؤں گی
اپنے بچوں کے واسطے نیناں
ایک جنت سا گھر بناؤں گی

فرزانہ نیناں

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان