گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملے

گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملے

کسی کو خاک سکوں مرگ ناگہاں سے ملے

کوئی زمیں سے بھی پہنچائے آسماں کو پیام

پیام اہل زمیں کو تو آسماں سے ملے

خود اپنی گم شدگی سے جنہیں شکایت ہے

تو ہی بتا انہیں تیرا نشاں کہاں سے ملے

سراغ عمر گزشتہ ملے کہیں سے حفیظؔ

سراغ عمر گزشتہ مگر کہاں سے ملے

حفیظ ہوشیارپوری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی