گلے لگائے مجھے،میرا رازداں ہو جائے

گلے لگائے مجھے،میرا رازداں ہو جائے
کسی طرح یہ شجر مجھ پہ مہرباں ہو جائے

ستارے جھاڑ کے بالوں سے اب یہ کہتا ہوں
کوئی زمین پہ رہ کر نہ آسماں ہو جائے

اسی لئے تو اداسی سے گفتگو نہیں کی
کہیں وہ بات نہ باتوں کے درمیاں ہو جائے

یہ زخم ایسے نہیں ہیں کہ جو دکھائیں تمہیں
یہ رنج ایسا نہیں ہے کہ جو بیاں ہو جائے

بلا رہا ہے کوئی آسماں کی کھڑکی سے
سو آج خاک نشیں! تیرا امتحاں ہو جائے

عابد ملک

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی