فضاؤں کی ہیں سانسیں تنگ ، روکو

فضاؤں کی ہیں سانسیں تنگ ، روکو
خدا کا واسطہ یہ جنگ روکو

لہو ہے اور رگوں سے بہہ رہا ہے
یہ پانی ہے نہ کوئی رنگ ، روکو

تمہارے گھر بھی شیشے کے بنے ہیں
مری جانب اچھلتا سنگ روکو

یہ نفرت بانٹنے والے ، دلوں میں
لگاتے جارہے ہیں زنگ ، روکو

گذرنے والو منظر کو بدل دو
رکو اور ساعتِ خوش رنگ روکو

کومل جوئیہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا