اس خامشی میں مجھ کو کسی نے پکارا کیا

اس خامشی میں مجھ کو کسی نے پکارا کیا

مہتاب آگیا ہے پلٹ کر دوبارہ کیا

ہم خواب زاد لوگ ہیں ، خانہ بدوش ہیں

ہم تو خود اپنے ساتھ رہیں گے ہمارا کیا

ہر سایۂ رواں کی طرح صرف تھوڑی دیر

اس دشت میں کرے گا کوئی ابر پارہ کیا

ا ے عشق، اے مجاز کے اس پار اصل عشق

تو مجھ پہ ہوسکے گا کبھی آشکارا کیا ؟

سب مدح و ذم سعود گئے دن کی بات ہے

دل شاد ہو تو آئنہ کیا سنگِ خارا کیا

سعود عثمانی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل