اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی

اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی
تُجھ پر، تِری نِگاہ سے چُھپ کر نِگاہ کی

رُوحوں میں جَلتی آگ، خیالوں میں کِھلتے پھول
ساری صداقتیں کِسی کافر نِگاہ کی

جب بھی غمِ زمانہ سے آنکھیں ہُوئیں دوچار
مُنہ پھیر کر تبسّمِ دِل پر نِگاہ کی

باگیں کِھنچیں، مُسافتیں کڑکیں، فرس رُکے
ماضی کی رتھ سے کِس نے پَلٹ کر نِگاہ کی

دونوں کا ربط ہے تِری موجِ خِرام سے
لغزِش خیال کی ہو، کہ ٹھوکر نِگاہ کی

مجید امجد​

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی