اک شامِ غم کے سائے میں

اک شامِ غم کے سائے میں رہ کر پلا ہوں میں
اندر کڑکتی دھوپ تھی، پہروں جلا ہوں میں

کوشش بھی کر کے دیکھ نہیں جان پائے گا
آساں سمجھ نہ مجھ کو بڑا مسئلہ ہوں میں

آنکھیں غزال تیری، بدن ہے کمال کا
وش رنگ تجھ پہ جان فدا کر چلا ہوں میں

جاری ہے جنگ مجھ میں یزید و حسین کی
انساں کے روپ میں ہوں مگر کربلا ہوں میں

وحشت، جنون، صدمے، جدائی ہے ساتھ میں
تنہا نہیں ہوں دیکھ، مجھے قافلہ ہوں میں

بس شاعروں کے حلقے میں جانے کو چھوڑ کر
یارو! سنا ہے آدمی اچھا بھلا ہوں میں

مستؔ و مریدؔ جیسے ہزاروں نگل لیے
کہتے ہیں مجھ کو عشق، مظفرؔ بلا ہوں میں

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی