اک سرسری سی بات کی

اک سرسری سی بات کی حد سے گزر گیا
الہام شش جہات کی حد سے گزر گیا

گزرا جو اب کے ہم پہ محبت کا سانحہ
ماضی کے واقعات کی حد سے گزر گیا

چلتے ہوۓ وہ صبحِ تمنّا سے جا‌ ملا
اک خواب میری رات کی حد سے گزر گیا

جب تک میں روبرو تھی؛ مجھے دیکھتا رہا
آئینہ التفات کی حد سے گزر گیا

آساں نہیں ہے ہونا مُسخّر جہان کا
پر وہ جو تجربات کی حد سے گزر گیا

مایوسیوں نے اس کو شکنجے میں کَس لیا
یاں جو بھی خواہشات کی حد سے گزر گیا

دشمن کے پینترے پہ خدا سے کِیا رجوع
اک شخص جیت مات کی حد سے گزر گیا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی