ایک سفر کے دوران

ان بلند اور دُور تک پھیلے ہوئے پیڑوں کے اوپر
آسماں ہے دُور تک
درمیاں میں راستہ ہے، گلستاں ہیں دُور تک
چھوٹے چھوٹے گھر ہیں اور چاروں طرف
کھانے پینے کی دکانیں دُور تک

ان گھروں اور ان دکانوں میں
بہت سے آتے جاتے لوگ ہیں
ان کو تکتی خوبصورت عورتیں
دل نشیں اور مہرباں آنکھیں ہیں ان کی
دل نشیں اور اجنبی آنکھیں ہیں
جن میں رائگانی کا جہاں ہے دُور تک

منیر نیازی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا