دست و پا مارے وقت بسمل تک

دست و پا مارے وقت بسمل تک
ہاتھ پہنچا نہ پائے قاتل تک

کعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخ
سعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک

درپئے محمل اس کے جیسے جرس
میں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک

بجھ گئے ہم چراغ سے باہر
کہیو اے باد شمع محفل تک

نہ گیا میرؔ اپنی کشتی سے
ایک بھی تختہ پارہ ساحل تک

 

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی