دکھ یہ اپنی زندگی سے کم نہیں ہوتے کبھی

دکھ یہ اپنی زندگی سے کم نہیں ہوتے کبھی
اب تو خود کو بھی میسر ’’ہم‘‘ نہیں ہوتے کبھی
اپنی اپنی کوششیں بھی آزما ڈالیں بہت
فاصلے جو درمیاں ہیں ضم نہیں ہوتے کبھی
بہہ گئے اشکوں میں دِل کے سب اثاثے دفعتاً
ہاں ! وہ تیرے خواب ہیں جو نم نہیں ہوتے کبھی
وقت بھی کچھ اس طرح سے رُخ بدلتا ہے یہاں
تم نہیں آتے کبھی اور ہم نہیں ہو تے کبھی
کل جو پھر ہم ایک ہوں گے روٹھنے سے فائدہ؟
کیوں تمنا اور کرم باہم نہیں ہوتے کبھی؟

شازیہ اکبر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان