دُعا

دُعا

(علی اسجد اور باذل تیمور کے لیے)

صبح نکھری ہو ئی کرنوں کے جلو میں اُترے
شام کے سنگ کئی تارے دمکتے آئیں
دن ترے خواب کی تعبیریں تجھے پیش کرے
شب کئی چاند ترے گھر میں اُترنا چاہیں

شازیہ اکبر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا