دوش دیتے رہے بیکار ہی طغیانی کو

دوش دیتے رہے بیکار ہی طغیانی کو

ہم نے سمجھا نہیں دریا کی پریشانی کو

یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی

لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو

بے گھری کا مجھے احساس دلانے والے

تو نے برتا ہے مری بے سر و سامانی کو

شرمساری ہے کہ رکنے میں نہیں آتی ہے

خشک کرتا رہے کب تک کوئی پیشانی کو

جیسے رنگوں کی بخیلی بھی ہنر ہو اظہرؔ

غور سے دیکھیے تصویر کی عریانی کو

اظہر فراغ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی