دور سے دیکھ لوں

دور سے دیکھ لوں، یا تصویر نکالوں بٹوے سے
یہ کب کہا ہے کہ وہ شخص فقط ہمارا ہو

بس ایک خواہش ہے، وہ آس پاس رہتا ہو
یہ کب کہا ہے کہ اس کا ہر لمحہ ہمارا ہو

وہ دور رہ کے بھی دل کے قریب اتنا ہے
جیسے اندھیری شب میں کوئی ستارا ہو

کبھی وہ تھک کے زمانے سے لوٹنا چاہے
تو میرے دل کا گوشہ ہی اس کا کنارا ہو

میں اس کو مانگوں بھی تو کس حق سے مانگوں
محبتوں میں کہاں لازم ہے سب ہمارا ہو

وہ مجھ سے دور رہے، پھر بھی دل یہی چاہے
خدا کرے اسے ہر موڑ پر سہارا ہو

اگر نصیب میں ملنا نہیں لکھا، نہ سہی
بس ایک بار تو اسے دیکھنا دوبارہ ہو

وہ میرے پاس نہ آئے، مجھے قبول ہے یہ
بس اس کے حصے میں خوشیوں کا ہر نظارا ہو

ہمیں تو چاہت نے بس اتنا سا حق دیا ہے، حسنؔ
وہ مسکرا دے تو دل کو بھی کچھ سہارا ہو

میر حسن

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر