دوجا جواز گر مرا پہلا جواز ہے

دوجا جواز گر مرا پہلا جواز ہے
میں سوچتا ہوں کون سا اچھا جواز ہے

میں چال پوری کرتا ہوں اینٹوں کو توڑ کر
دیوارِ شعرِ نو کا یہ سیدھا جواز ہے

خوشبو ہو، ذائقہ ہو، کوئی خواب ہو کہ لمس
میرے حواسِ خمسہ میں تیرا جواز ہے

سب پر غلافِ کعبہء حرمت نہ ڈالیے
کچھ روسیاہیوں کا بھی اپنا جواز ہے

یہ لو اگر گواہی نہیں بن سکی مری
سایہ مرے وجود کا کیسا جواز ہے

وہ جھوٹ بول بول کے ہلکان کیوں نہ ہو
جس آئینے کے واسطے چہرہ جواز ہے

یہ زیست بھی ہے طفل کی کھینچی ہوئی لکیر
اک اک لکیر کے لیے کیا کیا جواز ہے

علی صابر رضوی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا