ڈوبتی ناؤ تم سے کیا پوچھے

ڈوبتی ناؤ تم سے کیا پوچھے
ناخداؤ، تمھیں خدا پوچھے

کس کے ہاتھوں میں کھیلتے ہو تم
اب کھلونوں سے کوئی کیا پوچھے

ہم ہیں اس قافلے میں قسمت سے
رہزنوں سے جو راستہ پوچھے

ہے کہاں کنجِ گل ، چمن خورو !
کیا بتاؤں اگر صبا پوچھے

اٹھ گئی بزم سے یہ رسم بھی کیا
ایک چپ ہو تو دوسرا پوچھے

لیاقت علی عاصم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا