دل غموں کی لگاوٹوں میں تھا

دل غموں کی لگاوٹوں میں تھا
دھیان جب میرا آہٹوں میں تھا

مقتلوں میں چراغ جلتے تھے
موسمِ گل سجاوٹوں میں تھا

آئینہ گرد گرد تھا لیکن
ایک چہرہ بناوٹوں میں تھا

اُس جنوں کی تلاش ہے مجھ کو
جو سفر کی تھکاوٹوں میں تھا

عشق جس کو ہوا وہی ناصر
رہ گزر کی رکاوٹوں میں تھا

ناصر ملک

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا