دل دھڑکتا ہے جام خالی ہے

دل دھڑکتا ہے جام خالی ہے
کوئی تو بات ہونے والی ہے

غم جاناں ہو یا غم دوراں
زیست ہر حال میں سوالی ہے

حادثہ حادثے سے روکا ہے
آرزو آرزو سے ٹالی ہے

ٹوٹ کر دل ہے اس طرح خاموش
ہم نے گویا مراد پا لی ہے

کیا زیاں کا گلہ کریں باقیؔ
کچھ طبیعت ہی لا ابالی ہے

باقی صدیقی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی