دل تو اجڑی ہوئی ریاست ہے

دل تو اجڑی ہوئی ریاست ہے
شاعری صرف حسبِ عادت ہے

تم جو سمجھو تو عشق نعمت ہے
گر نہ سمجھو تو اک شرارت ہے

مسکراہٹ لباس ہے غم کا
درد اہلِ وفا کی اجرت ہے

تیرا ہر اک سے دوستانہ ہے
جبکہ مجھ کو تری ضرورت ہے

کچھ تو بتلاؤ بھولنے والو
یاد رکھنے میں کیا قباحت ہے

غم کے ماروں کی زندگانی میں
نیند سب سے بڑی سہولت ہے

قہقہوں کو خوشی کا نام نہ دو
ہنستے رہنا ہماری عادت ہے

کچھ تو ٹوٹا ہے دل کی دنیا میں
بےسبب تو نہیں یہ وحشت ہے

منزہ سید

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا