دل نے وفا کے نام پر

دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا خود کو فدا نہیں کیا

خیرہ سران شوق کا کوئی نہیں ہے جنبہ دار
شہر میں اس گروہ نے کس کو خفا نہیں کیا

جو بھی ہو تم پہ معترض اس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا

نسبت علم ہے بہت حاکم وقت کو عزیز
اس نے تو کار جہل بھی بے علما نہیں کیا

جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکم خدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام ہاں بہ خدا نہیں کیا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے