دل میں رہ جاتے ہیں سب لوگ

دل میں رہ جاتے ہیں سب لوگ بھلانے والے
ہم ہیں ہر حال میں رشتوں کو نبھانے والے

ہم نے تا عمر تجھے من میں بساٸے رکھا
رنج تو اور بھی تھے دل سے لگانے والے

کیا کوٸی رنگ ہے جو مجھ کو مکمل کر دے
میری تصویر کو رنگوں سے سجانے والے

ایسا لگتا تھا مجھے کھو کے بدل جاٸے گا
آج بھی اس کے ہیں انداز پرانے والے

میری پہچان تو دنیا میں تھی تجھ سے لیکن
اب نٸے ڈھنگ سے جانیں گے زمانے والے

مجھ کو جانا ہے کسی اور ہی منزل کی طرف
اب مجھے یاد نہ کر چھوڑ کے جانے والے

میں نےاِس واسطے اُس آگ کو بجھنے نہ دیا
میرے اپنے تھے مجھے زندہ جلانے والے

عاصمہ فراز

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا