دل کی دنیا میں غم شناس آیا

دل کی دنیا میں غم شناس آیا
زندگانی میں کوئی خاص آیا

گر چہ بن کر بتوں کا داس آیا
پھر بھی ہر بار میرے پاس آیا

آپ سے مل کے مل گئیں خوشیاں
آپ کا ساتھ مجھ کو راس آیا

اپنی آنکھوں سے میں پلاؤں گی
گر وہ ہونٹوں پہ لے کے پیاس آیا

اُس نے یکلخت کھینچ لی چلمن
لے کے نظروں کی التماس آیا

ساری خفگی مَیں بھول جاؤں گی
مسکرا کر وہ جب بھی پاس آیا

جب سے پہنا ہے عشق کا چولا
میرے پہلو میں خوش لباس آیا

منزّہ سیّد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی