دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے
کچھ وار مجھ کو زہر شناسائی چاہیئے

کل تک تھے مطمئن کہ مسافر ہیں رات کے
اب روشنی ملی ہے تو بینائی چاہے

توفیق ہے تو وسعت صحرا بھی دیکھ لیں
یہ کیا کہ اپنے گھر کی ہی انگنائی چاہیئے

ارمان تھا تمہیں کو کہ سب ساتھ میں رہیں
اب تم ہی کہہ رہے ہو کہ تنہائی چاہیئے

ہلکی سی اس جماہی سے میں مطمئن نہیں
بند قبا کا خوف کیا انگڑائی چاہئے

جو لوگ آئنہ سے بہت دور دور تھے
ان کو بھی آج بزم خود آرائی چاہیئے

شائستگان شہر میں مت کیجیے شمار
مردود خلق ہوں مجھے رسوائی چاہیئے

آشفتہ چنگیزی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی