دل چاک ہے سو داغ بھی دامن سے لگے ہیں

دل چاک ہے سو داغ بھی دامن سے لگے ہیں
کچھ تار غنیمت ہے ابھی تن سے لگے ہیں

اس حبس میں آواز اٹھانے کی سزا ہے
خود ہاتھ مرے اب مری گردن سے لگے ہیں

در آئیں کے دیوار اٹھانے سے ذرا اور
جو خوف کے سائے مرے آنگن سے لگے ہیں

زخموں کو مسیحا کی نظر کھول کے دیکھے
سہمے ہوئے کچھ خواب مرے تن سے لگے ہیں

پھر در پئے آزار ہے فرقت کا مہینہ
پھر ہجر کے آسیب نشیمن سے لگے ہیں

سعید خان 

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل