دلِ برباد کی حالت، زمانے کو بتاتے کیا

دلِ برباد کی حالت، زمانے کو بتاتے کیا
جسے جانا ہی تھا اک دن، اسے بھی ہم مناتے کیا

تری یادوںں نے گھیرا تھا، تھکن بھی بے تحاشا تھی
وگرنہ ہم شبِ فرقت، بھلا چائے بناتے کیا

شناسائی کا دعویٰ تھا مگر لفظوں کی حد تک تھا
جو آنکھیں پڑھ نہیں پایا، اسے قصہ سناتے کیا

کھلا تھا جب سرِ محفل بھرم اس کی محبت کا
پلٹ کر اس ستم گر پر، کوئی تہمت لگاتے کیا

بہت پہلے خدا حافظ جسے ہم کہہ کے آئے تھے
اسی دہلیز پر سالک، دوبارہ لوٹ جاتے کیا

محمد عمیر سالک

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف