ڈیجیٹل دور میں زہریلی رائے کا کاروبار

آج کا انسان معلومات کے طوفان میں جی رہا ہے۔ سوشل میڈیا اب صرف رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ خبروں، تبصروں اور رائے کے تبادلے کا سب سے طاقتور پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ مگر جہاں اس نے اظہارِ رائے کے دروازے کھولے، وہیں اس نے ایک نیا اور خطرناک رجحان بھی جنم دیا ہے — مایوسی کے سوداگر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عوامی ذہنوں میں شکست، خوف اور بے یقینی کے بیج بوتے ہیں۔

یہ افراد ہر واقعے کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ملک مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہو۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے، کبھی یہ کہ معیشت ختم ہو چکی ہے، اور بعض اوقات پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات پر ایسی بے بنیاد قیاس آرائیاں کرتے ہیں جو محض سنی سنائی باتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک تصدیق کی اہمیت ثانوی ہے، اصل مقصد سنسنی اور ہجوم کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

مایوسی پھیلانے والے عموماً ایسی غیر مصدقہ خبریں، افواہیں اور جعلی بیانات پھیلاتے ہیں جو سوشل میڈیا پر لمحوں میں وائرل ہو جاتے ہیں۔ ان کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ قاری یا ناظر فوراً متاثر ہو جائے۔ وہ ہر بحران کو اس شدت سے پیش کرتے ہیں کہ حقیقت دب جاتی ہے اور جذبات غالب آ جاتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ کسی خبر کی تصدیق کے بجائے اس پر ردعمل دینے میں جلدی کرتے ہیں، اور یہی جلد بازی ان سوداگرانِ مایوسی کا اصل سرمایہ ہے۔

ان کا دوسرا خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ قومی مباحثے کو زہریلا بنا دیتے ہیں۔ حکومت کے ہر اقدام کو ناکامی قرار دیتے ہیں، اداروں کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہیں اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ کبھی پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے بارے میں بے بنیاد مفروضے تراشتے ہیں، تو کبھی مذہبی یا لسانی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ قومی یکجہتی اور اعتماد کی فضا کو مجروح کرتے ہیں۔

یہ لوگ جانتے ہیں کہ خوف اور غصہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والے جذبات ہیں۔ اسی لیے ان کے پیغامات زیادہ "لائکس”، "شیئرز” اور "کمنٹس” حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ان پوسٹس کے پیچھے اکثر حقیقت نہیں، صرف تاثر ہوتا ہے۔ وہ عوامی اضطراب سے کھیل کر خود کو نمایاں کرتے ہیں، حالانکہ ان کے بیانات میں ٹھوس دلائل یا اعداد و شمار کا فقدان ہوتا ہے۔

مایوسی کے ان تاجروں کی ایک مشترکہ عادت یہ ہے کہ وہ مسئلہ تو نمایاں کرتے ہیں، مگر حل کی طرف کوئی رہنمائی نہیں دیتے۔ وہ سوال تو اٹھاتے ہیں، مگر جواب سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً عوام کے ذہنوں میں بے بسی اور مایوسی گہری ہوتی جاتی ہے۔ اس رویّے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قوم کے اندر امید اور عمل کا جذبہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔

درحقیقت، سوشل میڈیا کی طاقت کو دو دھاری تلوار کہا جا سکتا ہے۔ اگر اسے مثبت سوچ، اصلاحِ معاشرہ اور سچائی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک تعمیری قوت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے مایوسی، تفرقہ اور نفرت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی قوت معاشرتی زوال کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہے کہ ہم اس ہتھیار کو تعمیر کے لیے استعمال کریں گے یا تخریب کے لیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر صارف میں ڈیجیٹل شعور پیدا کیا جائے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہر خبر یا تبصرے کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں، اور تبصرہ کرتے وقت یہ سوچیں کہ ہمارا جملہ کسی کے ذہن یا دل پر کیا اثر ڈالے گا۔ رائے دینے سے پہلے تحقیق، اور اشتراک کرنے سے پہلے ذمہ داری — یہی باشعور شہری کی علامت ہے۔

مایوسی کے سوداگر ہمیشہ رہیں گے، مگر ان کی منڈی اس وقت ٹوٹے گی جب ہم خود امید اور شعور کے خریدار بنیں گے۔ اگر ہم سچائی، مثبت فکر اور اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں، تو کوئی افواہ، کوئی منفی مہم ہمیں گمراہ نہیں کر سکتی۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
زہریلی رائے کا کاروبار اسی دن ختم ہوگا، جس دن شعور اور سچائی کو بازار میں سب سے بڑی قیمت ملے گی۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے