دھند چھٹنے کے انتظار میں ہوں

دھند چھٹنے کے انتظار میں ہوں
میں ابھی وقت کے غبار میں ہوں

زندگی اور چیز ہوتی ہے
میں تو سانسوں کے کاروبار میں ہوں

شور آنگن میں ہے تو ہوتا رہے
میں تو دستک کے انتظار میں ہوں

پیاس ہوں ایک تپتے صحرا کی
اور آنکھوں کے آبشار میں ہوں

معرکہ ختم کیوں نہیں ہوتا
کب سے مصروف آر پار میں ہوں

آخری آدمی ہوں میں طارق
اور میں آخری قطار میں ہوں

ڈاکٹر طارق قمر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی