دیکھ کر تیرے گیسوئے برہم

دیکھ کر تیرے گیسوئے برہم
مسکرانے لگے حیات کے غم

اک تمہاری نظر بدلنے سے
ہو گئیں کتنی محفلیں برہم

آ گئے آپ درمیاں ورنہ
کھل چلی تھی حقیقت عالم

دیکھنا تو بہار کے انداز
غنچے غنچے کی آنکھ ہے پُرنم

آ رہی ہے وہ صبح نو باقیؔ
دیکھو لے کر حیات کا پرچم

باقی صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل