دیپِ اُلفت مجھے جلانا ہے

دیپِ اُلفت مجھے جلانا ہے
نفرتوں کو بھی اب مٹانا ہے

ختم ہونگےوہ روگ جن میں اک
ہجر کا درد بھی پرانا ہے

اب ضروری ہے وصلِ جانِ جاں
قربتوں کو بہت بڑھانا ہے

ڈر نہیں اب رقیبِ اُلفت کا
عشق میں سربھی اب کٹانا ہے

لوگ پانی سے ڈر گٸے مجھ کو
بحرِ آتش گزر کے جانا ہے

کر بلا کے شہیدؓ کو میں نے
مشعَلِ راہ اپنا مانا ہے

اب اُسی اک حسینؓ کے جیسے
سر مجھے نیزے پہ چڑھانا ہے

ڈاکٹر محمد الیاس عاجز

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی