دعویٰ تو ہے اسے بھی

دعویٰ تو ہے اسے بھی بہت آن بان کا،
لیکن کہاں چھپائے اثر خاندان کا،

دیوار میں جو کیل بھی ٹھوکیں ضرورتاً ،
چہرہ اترنے لگتا ہے مالک مکان کا

تلوار ٹوٹنے کی خبر تک نہیں اسے ،
یارب گمان ٹوٹے نہ خالی میان کا

بہت یہی ہے اپنا سفر اب سمیٹ لے،
لہجہ بدل رہا ہے ترے میزبان کا ۔

پھر اس شکار گاہ کا منظر کچھ اور ہو،
شہتیر ٹوٹ جائے اگر اس مچان کا

گزرا کوئی خیال تو آنسو نکل پڑے،
نقشہ بنا رہاتھا میں ہندوستان کا۔۔

اک زخم بھر گیا ہے اور اک زخم ہے ہرا۔۔
اک زخم تیر کا تھا اور اک ہے کمان کا

پہچان تیرے میرے تعلق کی تھا کبھی،
وہ حرف مٹ گیاہے مری داستان کا

ڈاکٹر طارق قمر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی