دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا

یہ کس جگہ پہ میں تمہاری جستجو میں آ گیا

وہ سرو قامت ہو گیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے

جانے کہاں سے زور سا اس کی نمو میں آ گیا

بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کے پلٹا ہے

اور نور کا سیلاب سا اس آب جو میں آ گیا

چاروں طرف ہی تتلیوں کے رقص ہونے لگ گئے

تو آ گیا تو باغ سارا رنگ و بو میں آ گیا

میں جھومتے ہی جھومتے احمدؔ تماشا بن گیا

جب عکس اس کے رقص کا میرے سبو میں آ گیا

احمد خیال

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی