درویش جو مسکرا رہا ہے

درویش جو مسکرا رہا ہے
برگد پر بور آ رہا ہے

دھرتی کس نیند سو رہی ہے
افلاک میں سیل آ رہا ہے

اک سانپ لپٹ رہا ہے دل سے
شاید وہ دور جا رہا ہے

بستر پر نیند ڈھوڈتا ہوں
اک خواب مجھے بلا رہا ہے

چپ چاپ کھڑے ہیں پیڑ سارے
پنچھی کوئی دھن بنا رہا ہے

سوتے میں بھر رہی ہے سسکی
کیا خواب اسے ڈرا رہا ہے

یا آنکھ بدل رہی ہے منظر
یا پہیا کوئی گھما رہا ہے

جنگل میں آگ لگ چکی ہے
دل کو اک وہم کھا رہا ہے

عدنان سرمد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا