درونِ خواب نیا اک جہاں ، نِکلتا ہے

درونِ خواب نیا اک جہاں ، نِکلتا ہے
زمیں کی تہہ سے کوئی آسماں ، نِکلتا ہے

بھلا نظر بھی وہ آئے تو کس طرح آئے
مرا ستارہ پسِ کہکشاں ، نِکلتا ہے

ہوائے شوق یہ منزل سے جا کے کہہ دینا
ذرا سی دیر ہے بس کارواں ، نِکلتا ہے

مری زمین پہ سورج بوقتِ صبح و مسا
نکل تو آتا ہے لیکن کہاں ، نِکلتا ہے

مقامِ وصل اک ایسا مقام ہے کہ جہاں
یقین کرتے ہیں جس پر گماں ، نِکلتا ہے

یہ جس وجود پہ تم ناز کر رہے ہو بہت
یہی وجود بہت رائگاں ، نِکلتا ہے

بدن کو چھوڑ ہی جانا ہے روح نے آزر
ہر اک چراغ سے آخر دھواں ، نِکلتا ہے

دلاور علی آزر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا