دریا کو کناروں میں سمٹ جانے کا دکھ ہے

دریا کو کناروں میں سمٹ جانے کا دکھ ہے
صحرا کو اگر حد نظر ہونے کا دکھ ہے

مرجھایا چلا جاتا ہے جو پھول کھلا تھا
اس حسن کو تصویر میں بند ہونے کا دکھ ہے

پھر بھول گیا بچوں نے جو کام کہا تھا
سب ہوتے ہوئے وقت پہ گھر آنے کا دکھ ہے

پردے میں تھی تو زندگی دلکش تھی حسیں تھی
سچ پوچھئے تو پردہ اٹھا دینے کا دکھ ہے

ہنس پڑتے تھے ہم اس کی ہر اک بات اور اب
بجھ سی گئی ہے زندگی، ہنس پڑنے کا دکھ ہے

جل دے تو گیا موت کو پر خود کو کیا گم
دریا کو سمندر میں اتر جانے کا دکھ ہے

بازار میں ہر چیز کا بک جانا اٹل ہے
یوسف کو تو سستے میں نمٹ جانے کا دکھ ہے

کلیم باسط

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا