درد کے بہانے سو

درد کے بہانے سو
پیار کے فسانے سو

قربتوں کا اک لمحہ
ہجر کے زمانے سو

بھولتے تجھے کیسے
یاد کے خزانے سو

کس طرح مداوا ہو
زخم ہیں پرانے سو

دربدر بھٹکتا ہے
جس کے ہیں ٹھکانے سو

زندگی جئے کیسے
موت کے نشانے سو

یاس تیری آنکھوں میں
خواب ہیں سہانے سو

یاس یاسمین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان