درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے

درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے
جئے جانے کی رسم جاری ہے

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

رات کو چاندنی تو اوڑھا دو
دن کی چادر ابھی اتاری ہے

شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلے
کیسی چپ سی چمن پہ طاری ہے

کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا
آج کی داستاں ہماری ہے

 

گلزار 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا