دانشوروں کے بس میں

دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھا
میں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھا

کیا درد ٹوٹ ٹوٹ کے برسا ہے رات بھر
اتنا غبار تو مرے چہرے پہ کل نہ تھا

پتھراؤ کر رہا ہے وہ خود اپنی ذات پر
کیا دل کے مسئلے کا کوئی اور حل نہ تھا

شاخیں لدی ہوئی تھیں تو پتھر نہ تھا نصیب
پتھر پڑے ملے تو درختوں میں پھل نہ تھا

شب کی ہوا سے ہار گئی میرے دل کی آگ
یخ بستہ شہر میں کوئی رد و بدل نہ تھا

اب ایک ایک حرف سے چھنتی ہے روشنی
تم سے ملے نہ تھے تو یہ حسن غزل نہ تھا

یہ کہہ کے سب نے برف میں دفنا دیا مجھے
کیوں دوسروں کی طرح مرا ذہن شل نہ تھا

قیصرؔ ضمیر وقت کو دیکھا کرید کے
صدیاں رکھی تھیں دوش پہ مٹھی میں پل نہ تھا

قیصر الجعفری

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا