کلوژر

مرا دل بے نشاں کشتی
ترے جذبات کے طوفان زدہ
ناراض موسم میں
نجانے کب سے لرزاں ہے
کہاں تک سرد لمحوں میں سلگنا ہے؟
کہاں تک اجنبی موسم نبھانے ہیں ؟
چرا کر دل زدہ خوابوں کے دامن سے
شفق ساماں لفافے میں
سجا کر دو عدد قطرے بہاراں کے
اگر بھیجو
تو شاید شام ڈھل جائے

سعید خان 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی