چراغ کا قد بڑھانے والوں کی خیر یا رب

چراغ کا قد بڑھانے والوں کی خیر یا رب
ہوا کو دشمن بنانے والوں کی خیر یا رب

مسافروں کو جو دھوپ میں چھاوں دے رہے ہیں
یہ پیڑ پودے لگانے والوں کی خیر یا رب

ہم اس سے پہلے تو صرف نفرت کو جانتے تھے
ہمیں محبت سکھانے والوں کی خیر یا رب

میں ڈر رہا ہوں کہ بهاو روٹی کا بڑھ گیا ہے
یہ زہر سستا ہے کھانے والوں کی خیر یا رب

یہ خود ہی مجھ کو بلندیوں پر بٹھا رہے ہیں
کہ مجھ کو نیچا دکھانے والوں کی خیر یا رب

پرائے دیسوں میں بیٹھے اپنوں کو مل لیا ہے
سہولتیں یہ بنانے والوں کی خیر یا رب

میں صدقے جاوں کہ کتنی شیریں زباں ہے اردو
چراغ-اردو جلانے والوں کی خیر یا رب

ہم ایسے شاعر انہیں کے دم پر اچھل رہے ہیں
سخن کی بزمیں سجانے والوں کی خیر یا رب

جاوید مہدی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی