چیں بہ جبیں ہو

چیں بہ جبیں ہو
کتنے حسیں ہو

اتنی خموشی
گویا نہیں ہو

وہ مہرباں ہیں
کیونکر یقیں ہو

دنیا سے کھیلو
ناز آفریں ہو

یہ بے حجابی
پردہ نشیں ہو

جیسا سنا تھا
ویسے نہیں ہو

سوچو تو باقیؔ
سب کچھ تمہیں ہو

باقی صدیقی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی