بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیا

بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیا
رہ و رسمِ محبت چھوڑ دی کیا

یہ کیا اندر ہی اندر بُجھ رہے ہو
ہواؤں سے رقابت چھوڑ دی کی

مناتے پھر رہے ہو ہر کسی کو
خفا رہنے کی عادت چھوڑ دی کیا

لیے بیٹھی ہیں آنکھیں آنسوؤں کو
ستاروں کی سیاحت چھوڑ دی کیا

غبارِ دشت کیوں بیٹھا ہوا ہے
مرے آہو نے وحشت چھوڑ دی کیا

یہ دنیا تو نہیں مانے گی عاصم
مگر تم نے بھی حجت چھوڑ دی کیا

لیاقت علی عاصم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے