بلاوا

بلاوا

دیکھو دور افق کی ضو سے جھانک رہا ہے سرخ سویرا
جاگو اے مزدور کسانو!
اُٹھو اے مظلوم انسانو!
دھرتی کے ان داتا تم ہو
جگ کے پران ودھاتا تم ہو
دھنیوں کی خوشحالی تم ہو
کھیتوں کی ہریالی تم ہو
اونچے محل بنائے تم نے
شاہی تخت سجائے تم نے
ہیرے لعل نکالے تم نے
نیزے بھالے ڈھالے تم نے
ہر بگیا کے مالی تم ہو
اس سنسار کے والی تم ہو
وقت ہے دھرتی کو اپنا لو
آگے بڑھو ہتھیار سنبھالو
اٹھو اے مظلوم انسانو
جاگو اے مزدور کسانو
دیکھو دھرتی کانپ رہی ہے
گرد پھریرا ڈھانپ رہی ہے
کشٹ کی جوالا پھوٹ پڑی ہے
وقت ہے تھوڑا جنگ کڑی ہے
پھیل رہے ہیں کال کے گھیرے
تھامو اپنے سرخ پھریرے
تم ہو جگ جنتا کے سینک
پاپ کے ناشک ستیہ کے رکھشک
بھوک کے عادی ظلم کے پالے
کالی کٹیاؤں کے اجالے
کیا روکے گی تم کو شاہی
تم ہو بہادر سرخ سپاہی
جاگو اے مزدور کسانو
اٹھو اے مظلوم انسانو

دیکھو دور افق کی ضو سے جھانک رہا ہے سرخ سویرا

ساحر لدھیانوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے