بے وفا راستے بدلتے ہیں

بے وفا راستے بدلتے ہیں
ہم سفر ساتھ ساتھ چلتے ہیں

کس کے آنسو چھپے ہیں پھولوں میں
چومتا ہوں تو ہونٹ جلتے ہیں

اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھو
مندر دل میں چراغ جلتے ہیں

دل میں رہ کر نظر نہیں آتے
ایسے کانٹے کہاں نکلتے ہیں

اک دیوار وہ بھی شیشے کی
دود بدن پاس پاس جلتے ہیں

وہ ستارے مرے ستارے ہیں
جو پھری دھوپ میں نکلتے ہیں

کانچ کے موتیوں کے آنسو کے
سب کھلونے غزل میں ڈھلتے ہیں

بشیر بدر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل