بے نسب ورثے کا بوجھ

بے نسب ورثے کا بوجھ

گہرے پانی کی چادر پہ لیٹی ہُوئی جل پری
اپنے آئینہ تن کی عریانیوں کے تکلم سے ناآشنا
موجۂ زلفِ آب رواں سے لپٹ کر
ہواؤں کی سرگوشیاں سُنتے رہنے میں مشغول تھی!
ناگہاں
نیلگوں آسمانوں میں اُڑتے ہوئے دیوتا نے
زمیں پر جو دیکھا
تو پرواز ہی بھُول بیٹھا
نظر جیسے شل ہو گئی
اُڑنا چاہا____مگر
خواہشِ بے اماں نے بدن میں قیامت مچا دی
مگر وصل کیسے ہو ممکن
کہ وہ دیوتا___آسمانوں کا بیٹا ہُوا!
جل پری کا تعلّق زمیں سے
سو خواہش کے عفریت نے
آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں سرزمینوں کی مخلوق کا رُوپ دھارا
بہت کھولتی خواہشوں کے تلاطم سے سرشار نیچے اُترنے لگا

پروین شاکر 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی