بیکار ہے سب شکوۂ حالات وغیرہ

بیکار ہے سب شکوۂ حالات وغیرہ
قائم ہیں اگر درجہ و طبقات وغیرہ

حالات نے جیسا بھی بنایا وہ بنا ہے
مجبور کی ہوتی نہیں اوقات وغیرہ

حق یہ ہے کہ جینے کا برابر اُنہیں حق دو
دیتے ہو جنہیں صدقہ و خیرات وغیرہ

ہم پر جو کبھی دن نہیں نکلا ہے خوشی کا
یہ سب ہیں تمہارے ہی کمالات وغیرہ

کہنے ہی کہاں دیتے ہیں کیا چاہیے ہم کو
سُنتے ہی کہاں ہیں وہ سوالات وغیرہ

ہم نے تو چلو حرفِ دُعا چھوڑ رکھا ہے
جاتی ہیں کہاں اُنکی مناجات وغیرہ

عمران ہاشمی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا