بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
منتظر عُشّاق کو چہرہ دِکھانا چاہیے

باوجود اس عشق میں کیا کیا ستم ہم نے سہے
پھر بھی پاگل دل مرا کہ دل لگانا چاہیے

ہم سرِ محفل سے اب تک شعر ہی کہتے رہے
آپ کو بھی کچھ نہ کچھ اب تو سنانا چاہیے

تھک چکا ہے دل مسلسل مشکلوں سے اے خدا
کم سے کم اب سو کے ہی آرام پانا چاہیے

بارہا غرضِ ریا سو سو عمل اچھے کیے
صدقِ دل سے کیا , کیا ہے جو دِکھانا چاہیے

جو کسی مشکل میں حامیؔ آپ کی ہمت بنے
آپ کو بھی اس طرح کا اک دیوانہ چاہیے

حامیؔ ہمّت ہارنا مومن کا شیوہ ہی نہیں
آزمائش کی گھڑی میں مسکرانا چاہیے

سردار حمادؔ منیر

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

1 تبصرہ

سردار حمادؔ منیر جنوری 28, 2026 - 2:45 صبح
سردار حمادؔ منیر کلام
Add Comment