بفیض ِ شوق محبت ترا فسانہ کُھلا

بفیض ِ شوق محبت ترا فسانہ کُھلا
جنوں کے رنگ سے مجنوں ترا گھرانہ کھلا

جسے بھی دیکھئے منظر اٹھائے پھرتا ہے
تمام عمر نہ مجھ پر مرا زمانہ کھلا

کہیں شمار نہیں رزق کا کسی کے پاس
فقط مجھی پہ قناعت سے آب و دانہ کھلا

سفر کی سمت کھلی ہے نہ بادبان کھلے
ہوا کا دیپ کی لو پر ہے تازیانہ کھلا

مجھے اندھیرے میں سائے دکھائی دیتے تھے
چراغ جلتے ہی مجھ پر نگار خانہ کھلا

میں راز تھا کوئی سو راز ہی رہا لودھی
مرا وجود مرے روبرو کھلا نہ کھلا

رفیق لودھی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا